نمونہ اور نمونیہ

نازک اندام... سبک خرام... حسینہ.. نازنینہ جیسے الفاظ اس سے سو قدم کے فاصلے سے آداب کہہ کر گزرتے تھے.. ناک نقشہ اللہ کا بنائی چیز ہے سو اسکی کچھ زیادہ تفصیل نہ دیں گے... ناک منہ کی سطح سے بمشکل اٹھتی تھی اور نقشہ مشرق سے مغرب کے بیچ حد نگاہ تک پھیلا ہؤا تھا... البتہ شمال غروب کے بیچ لمبائی کو زیادہ لفٹ نہ کرائی گئی تھی...بال و رنگت محدود او لا محدود کی حدود میں کنفیوز ہوتے ہوے کسی تیسری جانب نکل گئے تھے.
وہ ہماری دوست تھی... ایسا ہم نہیں وہ کہتی تھی... اور اسکی دھونس سے زمین دب جاتی ہم ناچیز تو کسی گنتی میں نا تھے.. نجانے دل میں کیا سمائی کہ خود کو اقبال کا شاہین سمجھ بیٹھی اور کہنے لگی چھٹی پہاڑ پر گزاریں گے.. آنکھ کھلی تو ہم نے خود کو ایوبیا کے سرسبز پہاڑوں پر پایا... ماحول کی تراوٹ سے مستفید بھی نا ہو پائے تھے کہ دوست کی حرکتوں سے گھبراہٹ کا شکار ہو گئے.  محترمہ ایک عدد جیتے جاگتے دو ٹانگوں والے مرد کی جاسوسی فرما رہی تھیں.  بہت سمجھایا کہ بہن بے شک تم نے حجم و اطوار کی دوڑ میں جانوروں سے ریس لگائی ہے مگر آخر تم صنفِ نازک (نازک سے معزرت)  ہو. مگر نتیجہ سفر...  وہ شدومد سے اس مرد کے پیچھے لگی تھی جو بقول اسکے ملک دشمن عناصر میں مبتلا تھا... شک کی بنیاد اسکے رات بھر مختلف دوکانوں کے باہر سے اخبار و رسائل اکھٹے کرنا تھا.
دو دن اسکا شغل بنا رکاوٹ جاری رہا, تیسری رات برف باری شروع ہو گئ.  ٹھنڈ گویا گا رہی تھی سجنا آج تجھے نیند نہی آئے گی... اور ہماری دوست ایک بار پھر دوربین لئے باہر جانے کو تیار.  ہم نے منٹ سے پہلے دونوں ہاتھوں کے ساتھ پاؤں بھی کھڑے کر دئے کہ بی بی آج ہمیں بخش دو اور خود بھی عقل کرو,  پر اس نے ثابت کر دیا کہ بھینس عقل سے بڑی ہے. ہم مزے سے بستر میں گھسے چلغوزے کھاتے سو گئے.
آنکھ قریب ہی کہیں ٹریکٹر جیسی کھڑکھڑاہٹ سے کھلی...  اچانک بستر میں بھونچال سا آ گیا.  چھلانگ مار کر اٹھے تو دیکھا ہماری پیاری دوست اچھل اچھل کر کھانس رہی تھی. سانس لینا مشکل تھا.  یا وحشت کیا ہو گیا؟ ہوٹل ریسیپشن سے کہہ کر ڈاکٹر بلوایا اور ڈاکٹر کی جگہہ ایک معنک خبطی کو دیکھ جی بھر کر بدمزہ ہوے. وہ پہلے تو ہماری دوست کی پسلیاں گوشت کے بیچ تلاش کرتا رہا.  پھر جھلا کر بولا, شدید نمونیہ ہے شہر لے جائیں.

دوست اس حال میں بھی ملک و قوم کیلئے پریشان تھی اور ہم سوچ رہے تھے کہ اس پھڑکتے ہوے ریچھ کی نقل مکانی کے اسباب کیا کریں. آخر دور کا ایک کزن ہنگامی طور پر مدد کو پہنچا. جب ہم گاڑی میں اپنے دس کلو ناول رکھ رہے تھے تو کسی نے پکارا,  مڑ کر دیکھا تو "ملک دشمن" کھڑا تھا... بہت ادب سے بولا.  میڈم اگر آپ یہ سب کتابیں پڑھ چکیں تو کیا بیچنا چاہیں گی؟ ہم نے حیرت سے کہا نہیں.... مگر کیا تم یہ کتابیں پڑھنا چاہتے ہو؟
وہ بولا.....  جی نہیں.....  میں.....  کباڑیا ہوں.....!!!!

Comments

Popular posts from this blog

پھینو

khosla ka ghonsla