پھینو
نام تو اس کا پروین تھا اور تخلص پینو... مگر کیونکہ اسکی ناک سطح منہ سے زیادہ اونچائی حاصل نہ کر سکی تھی سو اس کا نام اہل محلہ میں پھینو مشہور ہو چکا تھا.
پھینو ہم سب کیلئے ایک چلتا پھرتا مشغلہ تھی، قد اور جسامت انتہائی متناسب نقوش جازب نظر اسکی زہنی ابتری کا منہ بولتا ثبوت صرف اس کے بال تھے جو پہلی نظر میں کسی سائنس دان کا الٹا پڑا تجربہ لگتے تھے.
لنگڑی کھیلنا اس کا محبوب کھیل تھا اور ہماری ازلی چڑ. کبھی کبھی ہم سوچتے یہ پاگل نہیں ہے بنتی ہے جب ہی تو ہمارا چہرہ دیکھتے ہی فوراً لنگڑی کھیلنا یاد آ جاتا ہے. مگر یہ ایک حقیقت تھی کہ پھینو پاگل تھی.
پھینو کا حال اس کے گھر والوں نے ویسا ہی رکھا تھا جیسا برینڈڈ کپڑے بنانے والی فیکٹری اپنے کپڑوں کے "بی پئیرز" کے ساتھ کرتی ہے. جو مرضی لے جائے جتنے مرضی میں بیچ دے. ہماری اماں اکثر اسکی ماں سے کہتیں لڑکی زات ہے دھیان رکھا کرو اور وہ ہنس کر کہہ دیتی چھوڑیں باجی اس جھلی کو کسی نے کیا کہنا؟
برسات کے موسم میں ہم کچھ گنڈوئے سے بن جاتے تھے، مطلب باہر نکلنا اچھا لگتا تھا مگر بارش بند ہو جانے کے بعد. اس دن بارش زوروں کی برس رہی تھی اور ہم کمرے میں گھسے پکوڑے نوش فرما رہے تھے کہ اچانک دروازہ بجا، بہتیرا کان لپیٹے پڑے رہے مگر بھلا ہو اماں کی مشہور زمانہ پلاسٹک کی چپل کا جس نے ایک ہی وار میں کمرے سے گیٹ تک پہنچا دیا. سامنے پھینو بارش میں بھیگے بجڑے کی طرح کھڑی تھی، ہماری شکل دیکھتے ہی کھل اٹھی اور بولی "لنگڑی کھیلیں"....آسمانی بجلی کیا لپکتی جس گھن گرج سے ہم نے اسے لتاڑا اور دروازہ بند کر دیا... منہ بنا کر اندر جا بیٹھے. آماں اسکی ماں کو بولنے لگی کیسے جوان بچی کو بارش میں کھلا چھوڑ دیا (بچی نہ ہوئی بچھڑا ہو گئ)
قریب دو گھنٹے بعد بارش رکی اور اتفاقاً سب سے پہلے ہم ہی گھر سے باہر نکلے. محلے کے جرنل سٹور کے راستے میں ایک خالی احاطہ پڑتا تھا جو رات کے وقت اہل محلہ کا پارکنگ لاٹ اور دن کو ہم بچوں کا پلے گراؤنڈ بن جاتا... ہم سائیکل کو 125 سمجھ کر اڑاتے جا رہے تھے کہ اچانک نظر احاطے کے دوسرے کونے میں اوندھی پڑی پھینو پر پڑی. سخت بدمزہ ہوئے کہ یہ کمبخت بارش میں نہا کر یہاں ہی سو گئ. جا کر دیکھا تو کچھ غلط تھا... کیا غلط تھا یہ اس وقت سمجھ نہ سکے مگر پھینو کا چہرہ اور کپڑے،.... کچھ ٹھیک نہیں تھا. الٹے قدم واپس بھاگے اور اماں کو بلا لائے.... اماں نے دیکھتے ہی کہا وہی ہوا جس کا ڈر تھا.
پھینو مر چکی تھی.. اسکی ماں اسکی لاش پر ماتم کر رہی تھی. مگر کیا فائدہ..
پھینو پاگل تھی، جھلی تھی، اللہ لوک تھی، مگر وہ ہمارے معاشرے میں بکھرے دو ٹانگوں والے حوس زدہ کتوں کیلئے ایک بہترین غذا تھی.
اس واقعے کو گزرے برسوں بیت گئے مگر آج بھی برسات میں دروازہ بجے تو دل سے صدا آتی ہے کاش پھینو ہو اور لنگڑی کھیلنے کو کہے تو ہم اس کے ساتھ اسکا دل بھر جانے تک کھیلتے رہیں. اس کے جانے کے بعد احساس ہوا، وہ معصوم جاتے جاتے اپنے ساتھ ہماری شوخی شرارت سب لے گئ.
مگر....
کیا فائدہ........
بہت اعلیٰ!
ReplyDeleteایسے ہی لکھتی رہو۔
معاشرے کا چھپا چہرہ دکھا دیا آپ نے بچوں کی خاطر انسان کیا کیا پاپڑ بیلتا ہے اور اگر بچے میں کمی اجائے تو اسکا یہ ہی حال ہوتا جو آپ نے بیان کیا ہے۔
ReplyDelete