Posts

انوکھا لاڈلا

گئے وقتوں میں سنتے تھے کہ گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی جانب بھاگتا ہے ۔۔۔۔ دور حاضر میں جب سب کچھ بدل رہا ہے تو مثالوں کی کیا مجال جو مرد مجاہد کی طرح گڑی رہیں ۔۔۔تو دور حاضر م...

پھینو

نام تو اس کا پروین تھا اور تخلص پینو... مگر کیونکہ اسکی ناک سطح منہ سے زیادہ اونچائی حاصل نہ کر سکی تھی سو اس کا نام اہل محلہ میں پھینو مشہور ہو چکا تھا. پھینو ہم سب کیلئے ایک چلتا ...

بےچارہ اور بریانی

ہونقوں کی عدیم ال دستیاب نسل سے اس کا ددھیالی رشتہ ضرور تھا. اثر خون میں تھا اثرات چہرے پر.  دو سو کلومیٹر کے فاصلے سے دیکھنے والا بھی با آسانی پہچان لیتا کہ ایک اسیل نسلی ہونق چلا آ رہا ہے. زلفیں اس خوف سے سطح سر سے اٹھنے نہ دیں کہ کہیں وہ بھی انکی طرح ہر طرف بے لگام نہ بڑھ جائیں. ناک اور ہونٹوں کے بیچ مونچھ کی جگہہ کا اس قدر فقدان تھا کہ نہ تو وہاں کبھی شیو کی ضرورت پڑی نہ ہی کسی فصل کی موجودگی دکھی. حلیہ ہمیشہ ایسا ہوتا کہ چلتے پھرتے کسی بھی ڈرامہ یا فلم میں دکھیاری بیوہ کا کردار ادا کر سکتے تھے. ایک دن کسی بچے نے نام پوچھا تو جھٹ سے بولے غفران قاسم,بچہ فلسفی تھا بولا  مطلب قاسم آپکے بابا ہوئے؟ یہ حضرت سوچ میں پڑ گئے... اور ہمیں سوچ میں ڈال دیا کہ ان کی اماں کے یہاں لڑکا پیدا ہؤا تھا یا رسوائی. ..؟ وہ ہمارے کرائے دار تھے. محترم کو بریانی بہت پسند تھی...  ویسے یقیناً اگر پوچھ لیا جاتا کہ کونسی بریانی پسند ہے تو صاحب کی بولتی بند ہو جاتی.  جب دیکھو مختلف ٹھیلوں سے بریانی خریدتے پائے جاتے.  بدہضمی سے بچپن کا یارانہ تھا، سو ہمارے لئے غفران بھائی ٹھیک ہیں کا مط...

نمونہ اور نمونیہ

نازک اندام... سبک خرام... حسینہ.. نازنینہ جیسے الفاظ اس سے سو قدم کے فاصلے سے آداب کہہ کر گزرتے تھے.. ناک نقشہ اللہ کا بنائی چیز ہے سو اسکی کچھ زیادہ تفصیل نہ دیں گے... ناک منہ کی سطح سے ب...

khosla ka ghonsla

وہ ایک عام سا دن تھا.... نہ ہوا میں مستی نہ فضا میں کچھ ایسا کہ خواہ مخواہ وصی شاہ یا امجد فراز کو خراج تحسین پیش کرنے کو دل کرے.  ہم علی الصبح قریب 9 بحے اٹھ بیٹھے... امی حضور نے روائیتی پر شفقت "گالیانہ مزاج پرسی" کے بعد بہت محبت سے فرمایا کہ اگر ناشتہ کرنا چاہتی ہو تو دکان سے بریڈ لے آؤ.  ناگا ساکی اور ہیروشیمہ میں کیا دھماکا ہؤا ہو گا جو امی کا یہ حکم سن کر ہمارے معصوم دل پر بم گرا...... بہرحال.... ہمارا شمار ان لوگوں میں ہے جو اگر ایک وقت نا کھائیں تو اضافی تین وقت اس ایک وقت کا غم غلط کرنے کیلئیے کھا بیٹھتے ہیں..... جلدی جلدی ابایہ  پہنا.... اور اپنے بے تحاشہ گھنگھریالے بال,  جو کہ کنڈل کھانے کی دوڑ میں کنڈلی والے سانپوں کو بھی پیچھے چھوڑتے ہیں,  یونہی بنا سلجھائے حجاب میں اُڑس لیے..... تیز قدموں سے گھر سے نکلے....  گو کہ ماننا مشکل ہے مگر اس وقت ہم یقیناً قبول صورت سے بھی کچھ کم ہی لگ رہے تھے....  کہ مطلب صرف بریڈ لانا تھا..... مگر سچ ہے کہ دنیا میں اندھوں کی کمی نہی.... اور ٹھرکیوں کی نظر تو ایک عام اندھے سے بھی چار درجہ کم ہوتی ہے.... ہمارا زن...