انوکھا لاڈلا
گئے وقتوں میں سنتے تھے کہ گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی جانب بھاگتا ہے ۔۔۔۔
دور حاضر میں جب سب کچھ بدل رہا ہے تو مثالوں کی کیا مجال جو مرد مجاہد کی طرح گڑی رہیں ۔۔۔تو دور حاضر میں ہم نے اس ضرب المثل سے ملتی جلتی مثال کچھ اس طرح سے دیکھی کہ ایک شیر کی کمبختی آئی اور اس نے شہر کی جانب دوڑ لگا دی۔ شہر میں اسوقت ایک بانکا کھلاڑی ۔۔۔اوہو۔۔۔ آئی مین شکاری سوئمبر رچا کر بیٹھا تھا ۔۔۔ شہر کی تقریباً تمام ناری شکتی بانکے میاں کو نہارنے میں مشغول و مصروف تھی۔ شیر نے جب یہ دیکھا تو جھٹ سے اپنا ایک میک اوور کروایا اور چڑھ گیا ممبر پر۔۔۔دھاڑ کر بولا، میں نے اس شہر کو شہر پرستان بنایا اور تم لوگ مجھ پر کسی اور کو فوقیت دیتے ہو۔
بیچارے شیر کی بات میں آدھی سچائی تو ضرور کہیں نا کہیں چھپی تھی، مگر وہ جوش خطابت میں یہ بھول گیا کہ امور سلطنت کو نمٹاتے نمٹاتے اسکا سر اسکے بالوں سے بہت آگے نکل چکا تھا۔
ادھر بانکے میاں نیا نیا رنگ و روغن کرائے ۔۔۔تجربے کو ڈیسٹمپر سے سجائے سر و چہرہ پر نئ فصل گل و گلزار اگائے بیٹھے تھے۔ چنانچہ وہی ہوا جو عشق اور سیاست کی جنگ میں ہمیشہ ہوتا ہے۔ ناری شکتی بلا تفریق حسن یوسف کیلئے انگلیاں کاٹنے پر تل گئ۔
اصل مسئلہ تب ہوا جب ناری شکتی نے اپنے اپنے "فوڈ پروائڈرز" کے آگے روو روو کرنا شروع کی شیر کے خلاف۔۔۔۔
وہ بیچارے پہلے ہی کام کی شدت اور حالات کی چخ چخ سے پریشان تھے۔ ان میں سے کچھ قابل استطاعت حضرات نے سوچا بانکے میاں تو اسوقت ایسے لازم ہیں جیسے شب آٹھ بجے کا ٹیلی سیریل۔ تو کیوں نا 9 بجے کے خبرنامے کی ٹینشن ختم کی جائے۔ انہوں نے شیر کی ٹانگ کھینچی اور اسکو ریڈ کارڈ دے کر واپس بھیج دیا۔
شیر بیچارہ جنگل میں ایک ایک جانور کو پکڑ کر پوچھتا پھرا کہ "مجھے کیوں نکالا" مگر جانور بھی ترقی کر چکے تھے ۔۔۔واپس پوچھتے رہے "ماما تو گیا کیوں سی؟ "۔۔۔
دیکھا جائے تو کچھ ایسی ہی ملتی جلتی سچویشن "بے بال برادران" اور "امورٹل کیپٹن" کی بھی ہے۔ نا کسی نے اپنی شفاف کارکردگی کا ثبوت دیا ہے تو دوسری طرف نا ہی کسی نے اپنے متوقع شاندار کارکردگی کی جانب کوئی ٹھوس اشارہ دیا ہے۔
الفاظ کی ایک نا سمجھ آنے والی اور نا ختم ہونے والی جنگ جاری ہے جس کی زد میں اب تو زندگیاں بھی خطرے میں آنے لگی ہیں ۔۔۔۔
اور پاکستان ۔۔۔۔۔ جی ہاں ۔۔۔ پاکستان بھی اس شاگرد کی طرح ہولڈ پر ہے جو انتظار میں ہوتا ہے کہ ٹیچر کب اور کس کرسی پر بیٹھائے گا۔ رہی ناری شکتی۔۔۔۔ تو وہ فیلحال ماہ رمضان کے باعث ۔۔۔پکوڑے تلنے میں مصروف ہے ۔
Wao yar great 😍😍
ReplyDelete