بےچارہ اور بریانی
ہونقوں کی عدیم ال دستیاب نسل سے اس کا ددھیالی رشتہ ضرور تھا. اثر خون میں تھا اثرات چہرے پر. دو سو کلومیٹر کے فاصلے سے دیکھنے والا بھی با آسانی پہچان لیتا کہ ایک اسیل نسلی ہونق چلا آ رہا ہے. زلفیں اس خوف سے سطح سر سے اٹھنے نہ دیں کہ کہیں وہ بھی انکی طرح ہر طرف بے لگام نہ بڑھ جائیں. ناک اور ہونٹوں کے بیچ مونچھ کی جگہہ کا اس قدر فقدان تھا کہ نہ تو وہاں کبھی شیو کی ضرورت پڑی نہ ہی کسی فصل کی موجودگی دکھی. حلیہ ہمیشہ ایسا ہوتا کہ چلتے پھرتے کسی بھی ڈرامہ یا فلم میں دکھیاری بیوہ کا کردار ادا کر سکتے تھے. ایک دن کسی بچے نے نام پوچھا تو جھٹ سے بولے غفران قاسم,بچہ فلسفی تھا بولا مطلب قاسم آپکے بابا ہوئے؟ یہ حضرت سوچ میں پڑ گئے... اور ہمیں سوچ میں ڈال دیا کہ ان کی اماں کے یہاں لڑکا پیدا ہؤا تھا یا رسوائی. ..؟ وہ ہمارے کرائے دار تھے.
محترم کو بریانی بہت پسند تھی... ویسے یقیناً اگر پوچھ لیا جاتا کہ کونسی بریانی پسند ہے تو صاحب کی بولتی بند ہو جاتی. جب دیکھو مختلف ٹھیلوں سے بریانی خریدتے پائے جاتے. بدہضمی سے بچپن کا یارانہ تھا، سو ہمارے لئے غفران بھائی ٹھیک ہیں کا مطلب تھا کہ غفران بھائی کا پیٹ خراب ہے.
ایک دن اچانک خبر ملی کے غفران بھائی کو عشق ہو گیا ہے. ایمرجنسی تحقیقات میں پتہ چلا کے محلے میں کوئی شیخ صاحب آئے ہیں جن کی دختر نیک اعلی پائے کی بریانی بناتی ہیں. ہمارے امتحان چل رہے تھے سو اس ڈرامے کی تمام اقساط تفصیل سے نا جان پائے. ڈرامے کا دورانیہ البتہ کچھ طویل ہو چکا تھا.... ہمارے امتحان گزرنے کے بعد تک کی پراگریس کچھ یوں تھی کہ دختر شیخ کا ہمارے گھر آنا جانا تھا اور وہ بالخصوس بریانی دے کر ہمیں کہتی تھیں کرائے داروں کے یہاں دے آؤ. اس حور پر نور کو دیکھ کر دل میں خیال ضرور آتا کے پوچھیں آپ نے بریانی خور کو دیکھا ہے؟ مگر زرا برابر اخلاقیات شائید کچھ باقی تھیں ہم میں.
وہ جون کا ایک انتہائی گرم دن تھا جس دن غفران بھائی کے سر پر گرمی چڑھ گئی. قریب تین ماہ سے مستقل سر پر لگا تیل دھویا, صاف کپڑے پہنے خوشبو لگائی مگر چہرے کا کیا کرتے جس پر ہونق پن کے ساتھ ساتھ معنک پن کا بھی اضافہ ہو چکا تھا. اس وقت وہ پہلی نظر میں کثیر الایال مطلقہ لگ رہے تھے.
وہ جون کا ایک انتہائی گرم دن تھا جس دن غفران بھائی کے سر پر گرمی چڑھ گئی. قریب تین ماہ سے مستقل سر پر لگا تیل دھویا, صاف کپڑے پہنے خوشبو لگائی مگر چہرے کا کیا کرتے جس پر ہونق پن کے ساتھ ساتھ معنک پن کا بھی اضافہ ہو چکا تھا. اس وقت وہ پہلی نظر میں کثیر الایال مطلقہ لگ رہے تھے.
ہمارا ہاتھ پکڑا اور بولے "چلو تمہاری باجی کو برتن واپس کر آئیں" ہم جان چکے تھے کہ دختر شیخ اب تک دیدار سے محروم ہیں صرف آواز سن رکھی ہے وہ بھی بس "آپ بریانی بہت اچھی بناتی ہیں" تک. بہتیرے بہانے کیئے کہ ان کو متوقع درد دل سے بچا لیں مگر ہونی کو کون ٹال سکتا تھا. گیٹ پر پہنچے بیل دی, اتفاقاً دروازہ دختر شیخ نے ہی کھولا جوں ہی غفران بھائی نے اپنا 15 انچ چوڑا منہ کھول کر انکو اپنی عقل داڑھ تک کا نظارہ کرایا ہم جھٹ ہاتھ چھڑا کر پیچھے ہو گئے. اچانک ہونق پن کا دورہ پڑا اور بھرائی آواز میں بولے "جی پلیٹیں" دختر شیخ نے ایک پل کو غور سے دیکھا پلیٹیں پکڑیں اور ادا سے بولیں...
"بھئیا... تمہارے صاحب کو بریانی پسند آئی نا"......
Comments
Post a Comment